مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو نے ہرٹیج سینٹر میں اپنے پالیسی خطاب میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ہرزہ سرائی ، بے بنیاد اور تکراری الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرےگا۔ امریکہ ایرانی نظام کے بجائے ایرانی حکام کی رفتار کو بدلنے کی ہر ممکن کوشش کرےگا۔ مائیک پمپئو نے کہا کہ ایران شام، حزب اللہ لبنان ، طالبان، القاعدہ کی حمایت کررہا ہے ۔ ایران ، اسرائیل کی سرحد تک پہنچ گيا ہے ۔ حزب اللہ کی زمینی فوج شام میں لڑ رہی ہے۔ حزب اللہ اسرائیل کے لئے خطرہ ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ نے مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوکر ثابت کردیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرےگا ،
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے ایران کی سینٹرل بینک کے ڈائریکٹر پر پابندیاں عائد کردی ہیں اور ہم ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کریں گے۔
مائیک پمپئو نے کہا کہ ایران خطے میں امریکہ کے اتحادی عرب ممالک کے لئے خطرہ ہے ایران یمن کے نہتے عوام کو ميزائل فراہم کررہا ہے ۔ ایران اسرائیل کے بجائے فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے ۔ پمپئو نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف یورپی یونین کے ممالک کو بھی اعتماد میں لےگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی وزير خآرجہ کے بےبنیاد الزامات کوئی تازہ الزامات نہیں ہیں ایران کے خلاف امریکہ کی معاندانہ پالیسی گذشتہ 40 برس سے جاری ہے۔ ایران امریکہ کی پابندیوں کے باوجود ترقی اور پیشرفت کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ ایران نے امریکی پابندیوں کے سائے میں مختلف شعبوں ميں خاطرہ خواہ پیشرفت حاصل کی ہے ایران مزاحمتی اقتصادی پالیسیوں پر عمل کرکے امریکہ کی ایران کے خلاف جدید پابندیوں کو بھی ناکام بنادےگا۔
آپ کا تبصرہ